Skip to content
UrduSeek.com

غزل - ۴

دل مرا سوزِ نہاں سے بے مُحابا جل گیاآتشِ خاموش کے مانند گویا جل گیا

دل میں ذوقِ وصل و یادِ یار تک باقی نہیںآگ اِس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا

میں عدم سے بھی پرے ہوں، ورنہ غافل! بارہامیری آہِ آتشیں سے بالِ عنقا جل گیا

عرض کیجے جوہرِ اندیشہ کی گرمی کہاں؟کچھ خیال آیا تھا وحشت کا کہ صحرا جل گیا

دل نہیں، تجھ کو دکھاتا ورنہ داغوں کی بہاراِس چراغاں کا، کروں کیا، کارفرما جل گیا

میں ہوں اور افسردگی کی آرزو، غالب! کہ دلدیکھ کر طرزِ تپاکِ اہلِ دنیا جل گیا