غزل - ۲۲
Submitted by hasanshafiq89 on Wed, 2005-06-15 07:26
|
بے تکلف، داغِ مہ مُہرِ دہاں ہوجائے گا |
گر نہ اندوہِ شبِ فرقت بیاں ہو جائے گا |
| فائدہ کیا سوچ، آخر تو بھی دانا ہے اسد دوستی ناداں کی ہے جی کا زیاں ہوجائے گا * * * * * |
|
