Posted Wed, 2005-06-15 06:10 by hasanshafiq89
|
رکھیو یارب یہ درِ گنجینہٴ گوہر کھلا
اِس تکلف سے کہ گویا بتکدے کا در کھلا
آستیں میں دشنہ پنہاں، ہاتھ میں نشتر کھلا
پر یہ کیا کم ہے کہ مجھ سے وہ پری پیکر کھلا
خلد کا اک در ہے میری گور کے اندر کھلا
زلف سے بڑھ کر نقاب اُس شوخ کے منہ پر کھلا
جتنے عرصے میں مِرا لپٹا ہوا بستر کھلا
آج اُدھر ہی کو رہے گا دیدہٴ اختر کھلا
نامہ لاتا ہے وطن سے نامہ بر اکثر کھلا |
بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا
شب ہوئی، پھر انجمِ رخشندہ کا منظر کھلا
گرچہ ہوں دیوانہ، پر کیوں دوست کا کھاؤں فریب
گو نہ سمجھوں اس کی باتیں، گونہ پاؤں اس کا بھید
ہے خیالِ حُسن میں حُسنِ عمل کا سا خیال
منہ نہ کھلنے پر وہ عالم ہے کہ دیکھا ہی نہیں
در پہ رہنے کو کہا اور کہہ کے کیسا پھر گیا
کیوں اندھیری ہے شبِ غم، ہے بلاؤں کا نزول
کیا رہوں غربت میں خوش، جب ہو حوادث کا یہ حال |
اس کی امت میں ہوں مَیں، میرے رہیں کیوں کام بند
واسطے جس شہ کے غالب گنبدِ بے در کھلا
* * * * * * |
Comments
ทัวร์จีน ทัวร์เกาหลี
ทัวร์จีน ทัวร์เกาหลี ทัวร์ญี่ปุ่น ทัวร์ฮ่องกง ทัวร์ปักกิ่ง ทัวร์เวียดนาม ทัวร์สิงคโปร์ ทัวร์ยุโรป ทัวร์ออสเตรเลีย ทัวร์พม่า ตั๋วเครื่องบินราคาถูก จองตั๋วเครื่องบิน โรงแรม เชียงใหม่ สปา เชียงใหม่ chiang mai hotel chiang mai spa ถ่ายภาพ เครื่องเขียน zipper bags เรียนร้องเพลง เรียนไวโอลิน รับสร้างบ้าน แบบบ้านสองชั้น เรียนเปียโน หางาน สมัครงาน
Thank you your data :) غزل - ۱۲
Hello everyone, and the owner of the article bring useful information to share. All very interesting information, thank you very much like to read.zipper bags, ของเล่นเด็ก, เสื้อผ้าเกาหลี, ชุดเด็ก, ถ่ายภาพ, เรียนร้องเพลง, เรียนไวโอลิน, เรียนเปียโน, agel, กาแฟ, เครื่องเขียน, รับสร้างบ้าน, หางาน, สมัครงาน
respond
Make your own life time more easy get the personal loans and everything you want.
NK
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
16
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
89
90
91
92
93
94
95