جنگ آزادی:۱۸۵۷ء
| جنگ آزادی:۱۸۵۷ء |
|
۱۷۹۹ء میں میسور کی شکست کے ساتھ ہی ہندوستانیوں پر خوش قسمتی کے دروازے بند ہوگئے تھے۔ ریاستیں یکے بعد دیگرے برطانوی راج میں شامل ہورہی تھیں۔ نا اہل انتظا میہ، انصاف میں تاخیر، ناقص معاشی حالات اور فنون کی ناقدری کے باعث لوگ مایوسی کا شکار ہورہے تھے وہ برطانیہ سے آزادی چاہتے تھے لہٰذا جدوجہد کا آغاز ہوا۔ بیگم حضرت محل، خان بہادر خان، مولوی احمدا لله شاہ، با دشاہ بہادر شاہ ظفر اور بہت سے دیگر نمایاں رہنما تھے۔ اس متفقہ عمل نے ذات پات، مذہب، زبان اور علاقائی تعصبات کی بیڑیاں کاٹ دیں اور ۱۰ مئی ۱۸۵۷ء کو ہندوستانیوں نے یک جان ہوکر غیرملکی عملداری کے خلاف بغاوت کردی۔
اگرچہ غیر مسلح مجاہدین آزا دی انتہائی تربیت یافتہ برطانوی افواج کا مقابلہ نہ کر سکتے تھے اس کے باوجود وہ بے حد دلیری سے اپنی آزادی کیلئے لڑے اور کافی خون بہایاگیا۔ جنگ آزادی ناکام ہوگئی۔ انگریز وائسرائے لارڈ وارن ہاسٹنگز نے ہندوستانیوں کے ساتھ اپنے سفاکانہ سلوک کے باعث بے مثال رسوائی کمائی۔ |

Comments
ทัวร์จีน ทัวร์เกาหลี
ทัวร์จีน ทัวร์เกาหลี ทัวร์ญี่ปุ่น ทัวร์ฮ่องกง ทัวร์ปักกิ่ง ทัวร์เวียดนาม ทัวร์สิงคโปร์ ทัวร์ยุโรป ทัวร์ออสเตรเลีย ทัวร์พม่า ตั๋วเครื่องบินราคาถูก จองตั๋วเครื่องบิน โรงแรม เชียงใหม่ สปา เชียงใหม่ chiang mai hotel chiang mai spa ถ่ายภาพ เครื่องเขียน zipper bags เรียนร้องเพลง เรียนไวโอลิน รับสร้างบ้าน แบบบ้านสองชั้น เรียนเปียโน หางาน สมัครงาน
asansör asansör şirketleri
asansör
asansör şirketleri
Göğüs Büyütücü Biber
Göğüs Büyütücü
Biber Hapı
Göğüs Büyütücü
Osmanlı iksiri
Fx15
Lida Zayıflama
جنگ آزادی:۱۸۵۷ء
Hello everyone, and the owner of the article presented the same good things thanks a lot.zipper bags, เสื้อผ้าเกาหลี, ชุดเด็ก, ถ่ายภาพ, เรียนร้องเพลง, เรียนไวโอลิน, agel, กาแฟ, เครื่องเขียน, รับสร้างบ้าน